نروان
(عطیہ خالد)
ایک لڑکی ایک لڑکے کے کاندھے پہ سوئی تھی
میں اجلی دھندلی یادوں کے کہرے میں کھو گیا
کیا یہ الہڑ معصوم سی لڑکی محبت آشنا ہے۔ کیا اس کا معصوم دل محبت کی حدت، تڑپ اور دیوانگی کو برداشت کرنے کے لئے بالغ ہو چکا ہے۔ کیا اس کا شعور ان تکلیفوں سے کم از کم آشنائی بھر رکھتا ہے جو اس سفر میں اس کو پیش آنے والے ہیں۔
کیا وہ جانتی تھی محبت کا سفر اس کے محبوب کے کاندھے پر سر رکھ کر سو جانے کا نام نہیں۔ محبت اس کی آنکھوں میں اترنے والے رنگوں کو دریافت کرنے کا نام نہیں، محبت اس کا ہاتھ تھام کر زندگی کے دشوار گزار راستے کو لانگھ جانے کا نام بھی نہیں۔
محبت تو اس نروان کا نام ہے جو شاید ان کے بیچ کبھی جنم لے گا؟؟
میری کہانی کا پس منظر
اس معصوم کو کیا خبر کہ اس لڑکے کے گھر اس کا کیسا استقبال ہونے والا ہے۔ ہو سکتا ہے وہاں بھی میرے باپ کی طرح کوئی سخت گیر اور مطلق العنان باپ، اس کی ہمراہی میں زندگی گزارنے والی کند چھری کی دھار جیسی ماں، شادی کے لئے لازوال شجاعت اور دولت کے مالک ہمراہیوں کا خواب دیکھنے والی کرخت رو بہنیں موجود ہوں۔
پہاڑی راستوں کے دھچکوں سے بے خبر وہ نہ جانے کتنی صدیوں کی تھکن اتارنے کو اس کے کندھے پر سر رکھ کر سو گئی تھی۔ سفر کا آغاز ہوتے ہی اس نے لڑکے کے ہاتھ کو اپنے سرد سفید ہاتھوں میں پکڑ کر بھینچا۔ یقیناً وہ کسی دلاسے کی منتظر تھی۔ پھر اس نے اس کے کندھے پر سر رکھ دیا۔ اور چند لمحوں بعد وہ گہری نیند میں تھی۔ لڑکے نے اسے گرنے سے بچانے کے لئے بازو کے گھیرے میں لے لیا۔ اور اپنے دھسے کو پھیلا کر اسے ڈھانپ دیا۔ لاری سے باہر سرد شام گہرا اودا دوشالہ اوڑھ رہی تھی۔

میں ایک ہائی اسکول معلم ہوں۔ سرکاری معلم۔ میرے لئے یہ ایک ایسا ناگوار فرض ہے جیسے کسی سونے کے بیوپاری کے لئے کوئلے کی دلالی کرنا۔ میں فطرتاً آزاد تھا۔ مجھے اپنی آزادی سے عشق تھا۔ قدرت کے بنائے مناظر اور چہرے مجھے کینوس پر اتارنے کا بے حد شوق تھا۔
میرا باپ خود ایک چائے کا ہوٹل چلاتا تھا۔ وہ اتنا سخت اور کڑوا تھا کہ اس کو اپنی چائے کو میٹھا کرنے کے لئے دوگنی چینی ڈالنی پڑتی ہوگی۔ مجھ سے بڑی تین بہنیں ماں کے ساتھ فٹبال سینے کا کام کرتی تھیں۔
جوانی کی سرحد پر کھڑی وہ رات دن فٹ بال سیتیں اور ساتھ ہی ساتھ انہوں نے دو شالوں پر علاقے کی مشہور کشیدہ کاری بھی شروع کر دی تھی۔
ایسے میں اس نوکری نے ایک عجیب عزم اور مستعدی عطا کر دی تھی۔ میں ان کے لئے کچھ کرنے کا خواب لے کر اس دور افتادہ سرد پہاڑیوں سے گھری وادی میں نوکری کے لئے چلا آیا۔
Parnian ki har shawl ke peeche ek kahani hoti hai. Is kahani jesi khamosh sard shaam ke liye hamari Fancy Collection zaroor dekhen:
Hamari Fancy Shawls Dekhen – https://parnian.store/shop

Intrigued .
Behtareen start
Love to read 😍
Intrigued
Behtareen
Love to read ❣️
Captivating
Intriguing
Interesting
Captivating story
Great story telling
بےشک محنت میں عظمت ہے آپ کی ہر کہانی لازوال ہوتی ہے اور سبق آموز کہانی ہوتی ہے
کچھ کہانیاں صرف پڑھی نہیں جاتیں بلکہ دل میں اتر جاتی ہیں، اور کچھ کردار کتاب کے صفحوں سے نکل کر اپنے محسوس ہونے لگتے ہیں۔
نروان کا تعارف ہی اتنا دلکش ہے کہ دل چاہتا ہے اس کہانی کو شروع سے آخر تک پڑھا جائے۔ محبت کی معصومیت، جذبات کی شدت اور دل میں اٹھنے والے ان گنت سوالات کا امتزاج یقیناً اس ناول کو خاص بناتا ہے۔ عطیہ خالد کے قلم سے سجی یہ کہانی پڑھنے کا شوق بڑھا رہی ہے۔
کچھ کہانیاں ختم ہو جاتی ہیں، مگر ان کے احساسات دل میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
عطیہ خالد کی تحریر ’’نروان‘‘ محض ایک کہانی نہیں بلکہ محبت کے ان پوشیدہ گوشوں کی دریافت ہے جہاں احساس، قربانی اور زندگی کی تلخ حقیقتیں ایک دوسرے سے ہم آغوش ہوتی ہیں۔
الفاظ کی دلکشی، منظر نگاری کی نفاست اور جذبات کی گہرائی قاری کو پہلی سطر سے ہی اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔
ایک معصوم لڑکی کا محبوب کے کاندھے پر سر رکھ کر سو جانا، محبت کے سفر کی ان گنت آزمائشوں کا پیش خیمہ محسوس ہوتا ہے۔
تحریر میں معاشرتی جبر، خاندانی رویوں اور انسانی احساسات کی عکاسی نہایت خوب صورتی سے کی گئی ہے۔
بلاشبہ ’’نروان‘‘ ایک ایسی دل نشیں تحریر ہے جو قاری کے دل میں محبت کے کئی ان کہے سوال چھوڑ جاتی ہے۔