ٹائم مشین – قسط 2 – عطیہ خالد

ٹائم مشین قسط 2 – کہانی

بس اس دن سے لے کر تین سال تک میں ان کا مہمان ہی رہا۔ تکلف کی نہ گنجائش تھی نہ جگہ۔ اگر ان کو انکار کرتا تو کہاں جاتا۔ اور ان کا خلوص اور محبت کسی کو بھی باندھ لینے کے لئے کافی تھا۔ مجھ سے پہلے آنے والے ٹیچرز بھی انہیں کے مہمان رہے تھے۔ یہ اور بات کہ واحد میں تھا، جو تین سال تک وہاں ٹکا رہا۔

نثار صاحب خود بھی پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔ تعلیم کی ضرورت اور اہمیت کو سمجھتے تھے۔ ان کی بڑی خواہش تھی کہ گاؤں کے بچے بچیاں پڑھ جائیں۔ اس لئے ہر آنے والے ٹیچر کو رہائش اور دیگر سہولیات مہیا کرتے۔ ان کی اپنی بیوی اور بچی کچھ سال قبل وبائی ہیضے کا شکار ہو کر دار فانی سے کوچ کر چکی تھیں۔ اب وہ اپنے ملازم کے ساتھ رہتے تھے۔ دو کمروں کا چھوٹا سا مکان تھا۔ جس میں سے ایک کمرہ اب میرے استعمال میں تھا۔

whatsapp image 2026 10 25 at 12.34.53 am

مختصر سی آبادی والا یہ گاؤں جہاں بے حد خوبصورت اور دلفریب تھا وہاں ہر طرح کی سہولتوں سے مبرا تھا۔ روشنی کے لئے قدیم طرز کی لالٹینوں کا استعمال ہوتا۔ پانی چشمے مہیا کرتے۔ پتھروں اور مٹی کے بنے ہوئے مکان دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا کہ میں ٹائم مشین میں بیٹھ کر قدرے پیچھے کو سفر کر آیا ہوں۔

رہ گئی میری ملازمت، تو سال بھر میں صرف سات بچے پڑھنے کے لئے آمادہ ہوئے وہ بھی اس طرح کہ میں ان کو ان کے کھیت میں جاکر فرداً فرداً سبق دیتا تھا۔ مہینے بعد تنخواہ ملی۔ تو میں نے اس کا معمولی سا حصہ خود رکھ کر باقی گھر بھجوا دیا۔ اور پھر یہی میرا معمول رہا۔ ایک ایک دن بیتتا رہا۔ میرا دل اس وادی میں خوب لگ گیا تھا۔ میں جو ہمیشہ سے قدرتی مناظر کا شیدا تھا۔ میرا رنگوں سے کھیلنے کا شوق یوں پورا ہورہا تھا۔ میں نے ایک لکڑی کا اسٹینڈ بنوا لیا۔ نثار صاحب شہر گئے تو رنگ اور کینوس منگوا لئے۔ اب میں جتنا چاہتا رنگوں سے کھیلتا۔ وادی کا قدرتی حسن مجھے پکارتا اور میں نکل کھڑا ہوتا۔ کبھی آبادی سے ہٹ کے قدرتی چشموں کی طرف۔ کبھی سیب اور آلو بخاروں کے باغوں کے بیچ۔ اور کبھی پہاڑی کے نیچے اور کبھی جنگلی پھولوں کے خوشوں کے درمیان۔ میری روح نکھرنے لگی تھی پرت در پرت۔

سال بھر بعد میں پہلی مرتبہ گھر گیا۔ میرے مسلسل پیسے بھیجنے کے باوجود گھر کی حالت ویسی ہی تھی۔ تینوں بہنیں سارا سارا دن فٹبال سیتی رہتیں اور اس سے ملنے والی رقم سے اپنے جہیز کی چیزیں خرید خرید کر پچھلی کوٹھری میں موجود جستی پیٹیوں میں رکھتی رہتیں۔ نہ جانے انہوں نے کب سے نیا کپڑا نہیں پہنا تھا، اچھا کھانا تو دور کی بات انہوں نے پیٹ بھر کر بھی نہیں کھایا تھا۔ روزانہ دوپہر کو تندور کی روٹیوں پر پیاز اور نمک رکھ کر سب کھا لیتے اور رات میں ابا کے آنے سے پہلے پہلے کالے چنوں کے چاول اور چٹنی پیس لی جاتی۔ اب اگر ان کو اس سے ہٹ کر کوئی غذا دی جاتی تو ان کا پیٹ یقیناً دہائیاں دیتا۔

میں جس دن گھر پہنچا سب پیاز روٹی کھا رہے تھے۔ چھوٹی میرے لیے جلدی سے انڈا تل لائی۔ لیکن میں نے کھانے سے انکار کر دیا۔ دل بھاری ہوگیا تھا۔ ابا ہوٹل پر تھا۔ ماں اسے خبر کرنے چل دی۔ میں تینوں سے گھر کے حالات کے بارے میں پوچھنے لگا۔ غسل خانے کا دروازہ تاحال ٹوٹا ہوا تھا۔ میں نے جو پیسے گھر کی مرمت کے لئے بھیجے تھے ان سے بہنوں کے لئے زیور خرید لیا گیا تھا۔ ابا آگیا تو کہنے لگا، “کیوں آگیا تم اتنا خرچہ کر کے۔ یہی پیسہ بھیج دیتا تو تمھاری ماں کا دوا دارو کرواتا۔”

کیا ہوا ماں کو؟ ڈاکٹر حرام کا بچہ بولتا جگر خراب ہو گیا ہے۔ میں نے غور سے دیکھا تو ماں کا سفید رنگ سیاہ پڑ رہا تھا۔ میں نے ابا کو اپنے پاس موجود سارا روپیہ دیا کہ ماں کا اچھی سے اچھی جگہ علاج کروائیں۔ لیکن ابا کے انداز سے لگتا تھا کہ ان کا ایسا کوئی ارادہ نہ تھا۔ چھ مہینے بعد ماں کی تشویشناک حالت کا تار آیا۔ افتاں و خیزاں میں ہر ممکن کوشش کرتا آدھی رات ڈھلے گھر پہنچ گیا۔ ماں کی حالت بہت خراب تھی۔ تینوں بہنیں اس کے سرہانے بیٹھی آنسو بہا رہی تھیں۔ جب میں نے ماں کو پکارا اس کے بخار کی حدت سے جلتے ماتھے کو بوسہ دیا، اس نے لمحے بھر کو آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا اور پھر اس کے ہوش جاتے رہے۔ صبح صادق سے پہلے ہی اس نے اس دنیا کو الوداع کہہ دیا۔ تینوں بہنوں کی سسکیوں نے میرے دل میں شگاف ڈال دئے۔ ابا کو تو جیسے کوئی فرق ہی نہیں پڑا تھا۔ نجانے کیسا تھا ابا کا دل جس میں زندگی بھر کی ساتھی کے لئے بھی کوئی گنجائش نہ تھی کہ وہ اس کا دوا دارو کرواتا۔ بنا کسی دوا علاج کے میری ماں تڑپتی اس دنیا سے چلی گئی تھی۔ میں اتنا دلگیر ہوا کہ اس کے جنازے کے دوسرے ہی دن واپس چلا آیا اور پھر لوٹ کر گھر نہ گیا۔

قسط 1 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

2 thoughts on “ٹائم مشین – قسط 2 – عطیہ خالد”

  1. یہ قسط پڑھ کر ایک بات شدت سے محسوس ہوئی کہ انسان گھر سے دور رہ کر اپنوں کے لیے کتنی قربانیاں دیتا ہے، مگر جب اپنے ہی اس کی محنت کی قدر نہ کریں تو دل کہیں کا نہیں رہتا۔ نثار صاحب کی محبت نے اجنبیت میں اپنائیت کا احساس دیا، جبکہ اپنے گھر کی بے حسی نے دل توڑ کر رکھ دیا۔ ماں کی موت والا حصہ واقعی دل کو چھو گیا، کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جن کا مداوا عمر بھر نہیں ہو پاتا۔ عطیہ خالدآپ نے جذبات کو جس خوبصورتی سے لفظوں میں سمویا ہے، وہ قابلِ تعریف ہے۔ 🌸

  2. چھوٹی سی اس ایک قسط میں مصنفہ نے گویا ایک پوری زندگی سمیٹ دی ہے۔ ٹائم مشین کی یہ قسط قدیم و جدید روایات کا حسین امتزاج ہے۔ ایک طرف لالٹین، پانی کے چشمے اور پتھر و مٹی کے مکانات ہمیں قدیم دور کی سیر کرواتے ہیں، تو دوسری جانب دورِ حاضر کے سلگتے مسائل، بالخصوص بچیوں کے جہیز اور برادری میں ناک اونچی رکھنے کی خاطر کی جانے والی شب و روز کی تگ و دو، کا ذکر بھی ملتا ہے۔

    نثار صاحب کا کردار خاص طور پر متاثر کرتا ہے۔ اپنی ذات میں تنہائی سمیٹے یہ شخص دوسروں کے لیے آسرا بنا ہوا ہے۔ گاؤں کے بچوں کی تعلیم کے لیے آنے والے معلم کو رہائش اور دیگر سہولیات فراہم کرنا ان کے خلوص اور علم دوستی کا مظہر ہے۔ دوسری طرف معلم کا اپنے گھر والوں کے لیے قربانیاں دینا، اپنی محدود آمدن کا بیشتر حصہ گھر بھیجنا اور فطرت سے لگاؤ کے ذریعے اپنی روح کو آسودگی فراہم کرنا بھی نہایت عمدہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

    مگر اصل المیہ تو اس وقت سامنے آتا ہے جب گھر واپسی پر اسے اپنی بہنوں کی محرومیوں اور ماں کی بیماری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جہیز کی فکر میں بہنوں کا اپنی بنیادی ضروریات تک بھلا دینا اور باپ کی بے حسی کے باعث ماں کا علاج نہ ہو پانا، دل کو اداس کر دیتا ہے۔ ماں کی موت کا منظر اور اس کے بعد گھر سے ہمیشہ کے لیے لوٹ آنے کا فیصلہ قاری کو دیر تک سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔

    عطیہ خالد نے سادہ مگر مؤثر انداز میں یہ احساس دلایا ہے کہ بعض اوقات انسان اپنوں کے لیے اپنی زندگی کھپا دیتا ہے، مگر اسے اپنے ہی گھر میں وہ محبت اور قدر نہیں ملتی جس کا وہ مستحق ہوتا ہے۔ نثار صاحب کی محبت اور اپنے گھر والوں کی بے حسی کے درمیان یہ تضاد قسط کو مزید اثر انگیز بنا دیتا ہے۔

    اب تو ٹائم مشین کا اگلا سفر کیے بغیر رہا نہیں
    جائے گا۔

    تنویر اعوان

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Cart